MarKazi Qalam

وجودِ باری پر عقلی دلائل

 کیا واقعی یہ کائنات خود بخود بن گئی؟

ذرا ایک لمحے کے لیے سوچئے… اگر آپ کو کسی سنسان جگہ پر ایک خوبصورت، جدید موبائل فون مل جائے تو کیا آپ یہ مان لیں گے کہ وہ خود بخود بن گیا؟ یا آپ فوراً کہیں گے کہ “اسے کسی نے بنایا ہے”؟

اب سوال یہ ہے کہ جب ایک چھوٹا سا موبائل خود بخود نہیں بن سکتا، تو یہ عظیم الشان کائنات—جس میں اربوں کہکشائیں، سورج، چاند اور حیرت انگیز نظام موجود ہے—کیا یہ خود بخود وجود میں آ سکتی ہے؟

یہی سوال ہمیں وجودِ باری تعالیٰ کی طرف لے جاتا ہے۔

 قانونِ علت و معلول (Cause & Effect)

دنیا کا ایک سادہ اصول ہے: ہر چیز کا کوئی نہ کوئی سبب (Cause) ہوتا ہے۔
دروازہ کھلا → کسی نے کھولا

بلب جل رہا ہے → بجلی موجود ہے بارش ہو رہی ہے → بادل ہیں

اسی طرح:

یہ کائنات موجود ہے → تو اس کا بھی کوئی سبب ضرور ہوگا

اور وہ سبب کوئی عام چیز نہیں ہو سکتا، بلکہ ایسا ہونا چاہیے جو:

خود کسی کا محتاج نہ ہو

ہمیشہ سے موجود ہو

سب کچھ پیدا کرنے کی قدرت رکھتا ہو

اسی کو ہم “اللہ” کہتے ہیں۔

نظمِ کائنات: کیا یہ سب اتفاق ہے؟

کائنات میں ہر چیز ایک زبردست نظم
کے ساتھ چل رہی ہے:

زمین سورج کے گرد ایک خاص فاصلے پر گھوم رہی ہے

اگر یہ فاصلہ تھوڑا سا بھی بدل جائے تو زندگی ختم ہو جائے

انسانی جسم میں دل، دماغ، آنکھیں—سب ایک حیرت انگیز نظام سے کام کر رہے ہیں

کیا یہ سب “اتفاق” (Chance) ہو سکتا ہے؟

نہیں! اتفاق ہمیشہ بے ترتیب (Random) ہوتا ہے، جبکہ کائنات مکمل ترتیب (Order) میں ہے۔

 جہاں ترتیب ہو، وہاں “ڈیزائنر” (Designer) ضرور ہوتا ہے اور وہی اللہ تعالیٰ ہے۔

 انسانی فطرت بھی گواہی دیتی ہے

انسان جب مشکل میں ہوتا ہے تو فوراً کہتا ہے: “یا مالک! ، یا اللہ!”

یہ پکار کسی نے سکھائی نہیں، بلکہ انسان کی فطرت میں موجود ہے۔

ایک بچہ بھی خوف میں کسی طاقت کو پکارتا ہے

ایک دہریہ (Atheist) بھی شدید مشکل میں خدا کو یاد کر لیتا ہے

یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ: 👉 خدا کا تصور انسان کے اندر فطری طور پر موجود ہے

 سائنس کیا کہتی ہے؟

کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ سائنس خدا کو نہیں مانتی، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔

مثلاً: Big Bang Theory کہتی ہے کہ کائنات ایک وقت میں “نہ ہونے” سے “ہونے” میں آئی۔

سوال یہ ہے: وہ “پہلا دھماکہ” کس نے کیا؟

سائنس صرف “کیسے” (How) بتاتی ہے، لیکن “کیوں” (Why) اور “کس نے” (Who) کا جواب نہیں دے سکتی۔

یہاں عقل کہتی ہے: کوئی “پہلا سبب” (First Cause) ضرور ہے اور وہ اللہ تعالیٰ ہے۔

الحاد کا ایک بڑا مغالطہ

ملحد اکثر کہتے ہیں: “اگر ہر چیز کا خالق ہے تو خدا کو کس نے پیدا کیا؟”

یہ سوال بظاہر بڑا لگتا ہے، مگر حقیقت میں غلط ہے۔

کیونکہ:

ہم نے کہا: ہر “مخلوق” کا خالق ہوتا ہے

اللہ “مخلوق” نہیں، بلکہ “خالق” ہے

اگر خدا کو بھی کسی نے بنایا ہو، تو وہ خدا ہی نہیں رہے گا

اس لیے: خدا وہی ہے جو خود سے موجود ہو (Self-Existent)

 سادہ مثال سے سمجھیں

فرض کریں ایک لمبی چین (Chain) ہے جس کے ہر حلقے کو کوئی اور پکڑے ہوئے ہے۔

اگر ہر حلقہ دوسرے پر ہی منحصر ہو، تو پوری چین کبھی بھی “کھڑی” نہیں ہو سکتی۔

 لازماً ایک ایسا نقطہ ہونا چاہیے جو خود قائم ہو اسی طرح کائنات کو بھی ایک “Self-Existing Being” کی ضرورت ہے اور وہ اللہ ہے۔

نتیجہ: عقل بھی مانتی ہے، دل بھی

آخر میں بات بہت سادہ ہے:

کائنات کا وجود → خالق کی دلیل ہے

نظم و ترتیب → ڈیزائنر کی دلیل ہے

انسانی فطرت → خدا کی پہچان ہے

سائنس → ابتدا کی نشاندہی کرتی ہے

👉 یہ سب مل کر ایک ہی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں: اللہ تعالیٰ موجود ہے، ایک ہے، اور سب کا خالق ہے۔

آخری سوچ

اگر ایک چھوٹا سا نظام بغیر بنانے والے کے نہیں بن سکتا، تو یہ عظیم کائنات کیسے بغیر خالق کے ہو سکتی ہے؟

ذرا دل سے سوچیں… جواب خود بخود مل جائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *